اسلامی رد نوآبادیات (Decolonization) کے نقطۂ نظر سے عقیدہِ توحید کی تفہیم:
اسلامیعقیدے کے مرکزی اصول یعنی لا الٰہ الا اللّٰہ (کوئی معبود نہیں اللہ کے سوا)کی گواہی سے وہ بنیادی شعور تشکیل پاتا ہے جو ہر مسلمان کے وجود کو بامعنی بنا دیتا ہے ۔یہ شہادت یا کلمہ بظاہر دو متضاد دعوؤں کا مرکب ہے۔ ایک نفی مع اثبات کے – بظاہر اس میں تضاد بلکہ ناموافقت محسوس ہوتی ہے۔ تاہم حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ ایک باریک بین نظر منطقی طور گندھے ہوئے ایک مستقل ڈھانچے کو عیاں کرتی ہے جو توثیقِ ایمان کی بنیاد ہے۔ فی الواقع ایک نفی،”لا الہ“ جس کے معنی ہیں کہ کاینات کا کوئی الہٰ نہیں یا” کوئی نظامِ کُہن نہیں“ (fossilized system) کے بعد ”الا اللہ“(سوائے اللہ کے) کا اثبات آتا ہے __ایک کثیر ما بعد طبیعیاتی نظام ( pluriversal metaphysical order) کے تئیں اس کے اپنے دعوؤں کے ساتھ اپنی اصل میں الہٰی وجودیاتی بنیادی درجہ بندی (divine ontologically-grounded hierarchy of differentiation) کی تفریق و تقسیم پر سوال اٹھاتا ہے یا بہ الفاظ دیگر اللہ تعالیٰ کی الوہیتِ مطلق پر شکوک و شبہات ظاہر کرتا ہے۔ 1 دیگر نظام ہائے حیات اپنے دعوؤں سمیت چاہے وہ دعویٰ اپنی ذات میں خدا ہونے کا ہو جیسا کہ فرعون کے معاملے میں یا بت پرستی کے عمل کی صورت میں ہو ،یہ سب ان غلط وجودیاتی شعائر (false ontological consciousness) کا نتیجہ ہے کہ جو حدودِ عدل کی خلاف ورزی اور اپنی من مانی سے دوسروں پر اپنا تسلط اور اور غلبہ جما کر سماجی و اقتصادی مراتب تشکیل دیتے ہیں ۔
توحید اور تہذیبی تاریخیت (Civilizational Historicity) :
یہی لا الٰہ کا جز ہے جس کے لیے آدم علیہ السلام تا نبی اکرمﷺ تمام انبیاء کرام کو اپنی امتوں کے درمیان محنت و مشقت کرنی پڑی تاکہ الا الله کے جز کی بنیاد رکھی جا سکے ۔ بہ الفاظ دیگر انہیں اولاً لوگوں کے ذہن و دل سے معبودانِ باطل اور حق کے خلاف ہر غلط دعویٰ کی جڑیں اکھاڑ کر مطلق توحیدِ الہٰی کو قائم کرنے کے لیے راہ ہموار کرنی پڑی۔ لاالٰہ جو کہ اپنی ذات میں الحاد کے سوا کچھ نہیں ہے، کبھی بھی ایسا مسئلہ نہیں تھا جس کی طرف انبیاء کرام نے خصوصی توجہ کی ہو کیوں کہ ہمیشہ سے “کچھ ایسا” ضرور موجود رہا ہے جس پر لوگ یقین کرتے تھے ۔ آغاز آفرینش سے ہر ایک پیغمبر کا بنیادی مشن ہی یہ رہا ہے کہ اندرون ( مثلاً تکبر) و بیرون (مثلاً بت) میں موجود اس “کچھ” کو لوگوں کے دلوں سے اکھیڑ پھینکا جائے۔
ہر پیغمبر کو اپنے لوگوں کی طرف یہی یکساں اور غیر متبدل مرکزی پیغام دے کر بھیجا گیا کہ خدا ایک ہے اور اور وہی یکتا عبادت کے لائق ہے ۔ اس پیغام کو صحیح و سالم طریقے سے لوگوں تک پہنچانے کے لیے زمین کو ہموار کرنا لازم تھا جو کہ ہر پیغمبر نے الہی طور پر منظم شدہ طریقے کی پیروی کرتے ہوئے موجودہ باطل تصورات و ابحاث کو دونوں بیرونی: یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ – یہ ابراہیم علیہ السلام کی مشہور دعا ہےجو قرآن میں درج ہے ۔ “اے رب ، ان لوگوں میں خود انھیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انھیں تیری آیات سنائے ، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے” اور اندرونی: وَ یُزَکِّیھِم۔۔”ان کی زندگیاں سنوارے” (یہیں سے تزکیہ نفس کی اسلامی روایت یعنی فطرت انسانی اور نفسیات کی درست روش کا صدور ہوتا ہے) تدابیر اختیار کر کے اصلاح کی ۔ 2 یہاں پہ یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ دونوں بیرونی و اندرونی ہدایت (اصلاح ) جس کا انتظام پیغمبر کی بیرونی اتھارٹی کرتی ہے ، خود انسانیت کہ جب بھی وہ گمراہ ہوئی، کی مکمل اصلاح ناگزیر تھی۔اسی لیے اسلام ہی واحد مکمل دینِ حق ،قابل توجیہ علم الوجود (ontology) اور مبنی بر حقیقت ہونےکے ساتھ واحد حقیقی فلسفۂ حیات ہے اور آغاز آفرینش سے اس کا پیغام غیر مبدل ہےجو انسان کی طرف خدا کے آخری پیغام میں موزوں اور شفافیت سے لبریز ہے۔
“ہم نے تم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔”3
ناجائز اسرائیلی قبضے کے خلاف فلسطینی سیاق کے تناظر میں توحید کی ضرورت و اہمیت :
اگر یہودی عقیدے نے کائنات کی آخری اور صحیح تفہیم کا راستہ بخشا ہوتا ، اگر یہودی عقیدہ توحید نے خدا کی الوہیت اور وحدانیت کو سمجھنے اور قبول کرنے کے تئیں حقیقی ڈھانچہ فراہم کیا ہوتا اور اگر یہودی تصوف کی روایت ’قبالہ ‘جو کہ قدیم یہودی باطنی (رمزیہ) تعلیمات کا مجموعہ ہے، تغیر سے پاک اور ازلی و ابدی خدا اور فانی و محدود کائنات کے مابین رشتے کو واضح کرنے کی روادار ہوتیں تو انہوں نے خدا کے جمال اور اقتدار کے ساتھ فطری طور مشغول ہونے کے لیے باضابطہ انداز سے کوئی مضبوط بنیاد قائم کی ہوتی تو پھر کیوں خالق کائنات بنی اسرائیل میں یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتا رہا؟ کیوں داؤد،سلیمان،زکریا،یحیٰ اور آخر پر عیسیٰ علیھم السلام کو اُن کی طرف بھیجا گیا؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سب کے آخر میں اور بطور خاتم النبیین (آخری نبی و رسول) ،رحمت اللعالمین (تمام جہانوں کے لیے رحمت) مبعوث فرمانے کا اقتضا کیا تھا؟4 وجہ سادہ ہے- تمام انبیاء کرام آخری نبی تک خدا کی مقرر کردہ درجہ بندی جو باطن کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے بے دخل ہو چکی تھی ،انسانیت کو خدا سے ان کے خارجی رشتے سے منقطع کیا گیا نتیجتاً بڑا خسارہ اور خطرناک فتنہ برپا ہوا۔5 الله تعالیٰ کی وحدانیت یعنی توحید کی صفت یکتائی کے انکار کی وجہ سے یہ فتنہ انسانی سماجوں میں حقیقت بن کر داخل ہوا،جو دیگر مابعد طبیعیاتی (metaphysical) نظاموں کی صفات کے ساتھ باہم گھل مل جانےکی قبولیت پر منتج ہوا،اس کی حقیقت کو دھندلا کیا اور اس کی بنیادی علمیات(episteme) کو تبدیل کیا۔ تاریخی نوعیت سے یہی وہ مناسب ساعت ہوتی تھی جب خدا کی طرف سے غلط کو صحیح کرنے کے لیے پیغمبران کرام بھیجےجاتے جو پھر اپنے لوگوں کو یہ ظلم یا نا انصافی جو انہوں نے اپنے ساتھ روا رکھا تھا، کوروکنے اور خدا کے منصفانہ نظام کو بحال کرنے کی دعوت دیتے۔اصلاح کا یہ سلسلہ آخری اور خاتم الرسل ﷺ کے ظہور تک جاری رہا اور آپ ﷺ کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد یہ ذمے داری آپﷺ کی امت یا ہر اس شخص کو جو آپﷺ کے پیغام پر ایمان رکھتا ہو، منتقل کی گئی۔
جیسے کہ بنی اسرائیل (اولادِ اسرائیل) کی طرف کئی نبی و رسول بھیجے گئے تھے۔انہیں اس لیے یہ نام (بنی اسرائیل) دیا گیا کہ وہ حضرت یعقوب علیہ السّلام کی نسل میں سے تھے جن کا ایک نام اسرائیل تھا۔یہ سب انبیاء و رُسل یکساں خدا کی عبادت و اطاعت کرتے تھے- اسی خدا کی جس نے تورات،انجیل،صحیفے اور بالآخر قرآن کریم نازل فرمایا۔ تو تاریخ کے دوران خدا بدل نہیں جاتا اور نہ ہی بنیادی پیغام میں کوئی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے ۔ یہ پیغام ان لوگوں کے لیے جو اس کو سنتے اور قبول کرتے تھے بالکل اسی طرح بطور امتحان ہوتا تھا جس طرح موسیٰ علیہ السّلام کے امتیوں کے لیے یہ ایک امتحان تھا۔ امتحان کی صورت اور طریقہ یہ ہوتا تھا کہ آیا جن لوگوں نے اس پیغام کو سنا کیا وہ اس پر ثابت قدم رہے اور اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کیا، کیا انہوں نے انصاف قائم کیا یا فساد پھیلایا اور آیا انہوں نے اس پیغام کو آگے پہنچانے میں حتی المقدور کوشش کی۔ بالکل یہی معاملہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے امتیوں کا تھا۔ آخر انہوں نے خدا سے کیے ہوئے میثاق پر ثابت قدم رہنے کو ترجیح دینے کے بجائے اس کو بارہا توڑ دیا ، موسیٰ اور ہارون علیہ السّلام کے لائے ہوئے پیغام میں تبدیلی اور آمیزش کی۔مختصراً یہ کہ وہ ان دونوں اور ان کے بعد ازاں آنے والے انبیاء کرام پر اعتماد سے مکر گئے اور اس کے برعکس ان چیزوں کو ترجیح دی جو انہیں اپنی سوچ کے مطابق خود کے لیے بہتر محسوس ہوئیں ۔ کئی معاملوں میں اس صورتحال نے انبیاء کرام کہ جن کی انہیں اتباع اور اطاعت کرنی چاہیے تھی،کے خلاف سازشیں اور الزامتراشی کرنے، حتی کہ قتل کرنے کی قبیح صورت اختیار کرلی ۔ مثلاً مجودہ تورات میں اس حد تک ردوبدل اور تحریف کی گئی ہے کہ اس کی ’اصل‘ مدت مدید سے گم ہو چکی ہے۔6 ایک اور مشہور معاملہ جس کی قرآن نے تصدیق کی ہے کہ جب انہوں نے ارض مقدس جس کو خدا کے ساتھ ان کے میثاقِ اول کے حصے کے بطور عطا کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا،میں داخل ہونے سے انکار کیا اور اپنی جانب سے موسیٰ و ہارون علیھما السّلام کو خود اور ان کے رب کے ساتھ لڑنے کا حکم کیا۔7 جیسا کہ ہم بعد میں دیکھتے ہیں کہ یہی وہ وعدہ ہے جس نے انیسویں صدی کے اواخر میں اس جدید صیہونی منصوبے کی مذہبی بنیادیں قائم کیں ۔
تاہم بنی اسرائیل میں سے ایسے لوگ بھی تھے جو انبیاء کرام کے پیغام پر ایمان رکھتے تھے اور جنہوں نے خدا کی زمین پراسے برقرار رکھنے اور نافذ کرنے کی خاطر جدوجہد کی۔یہ ایمان والے بہت اچھے اور نیک لوگ تھے جنہوں نے اس پیغام کے سامنے سر تسلیم خم کیا تھا یا بہ الفاظ دیگر وہ مسلمان تھے(حقیقتاً وہ جو مطیع و فرمانبردار ہوئے)۔یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے طالوت اور داوٗد علیہ السّلام کے دور میں جنگ کی اور اس ارضِ مقدس میں داخل ہوئے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ مذکورہ لوگوں اور آج کے سچے مومنین میں زیادہ تفاوت نہیں رہا ہوگا جبکہ دونوں توحید کے واحد غیر تبدیل شدہ بینر تلے ہر دور میں جس کی ہر آن اپنی یگانہ و مستندشکل میں ترتیب و تجدید کی گئی۔8
یہ بات اس حقیقت سے بآسانی ثابت کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اصل اور غیر تبدیل شدہ کتابیں نازل کی تھیں اگر وہ آج کے مومنین (مسلمانوں) میں نافذ ہو جاتیں تو ان کے پاس ان پر ایمان لانے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ کیوں کہ ان میں ہو بہو وہی پیغام درج ہوتا جو اس وقت قرآن میں موجود ہے۔یوں قرآن میں کوئی نیا پیغام یا نیا مذہب موجود نہیں ہے۔ یہ ان حقائق کا اعادہ اور توثیقِ نو ہے جو لوگوں کے مقاصد کے تئیں خدا کی طرف سے نازل کردہ ابتدائی صحیفوں سے مٹا دیے گئے تھے اور نوع انسانی نے انہیں گنوایا۔
اسلامی تعلیمات کی رو سے لوگوں کا کوئی گروہ محض حسب و نسب کیبنیاد پر “خاص” یا “چُنا ہوا” نہیں بنتا۔ خدا نسل کی بنیاد پر لوگوں کو کسی بھی قسم کی ترجیح نہیں دیتا چاہے وہ زمین ، دولت ، یا عزت کی صورت میں ہو۔9 ایک شخص کا تعلق کہاں سے ہے یہ اوراس شخص سے جڑے دیگر حادثات مکمل خود مختارانہ عمل ہے جو اس آزمائش کے مواد کو تشکیل دیتا ہے جس میں سے اس کو سماجی اور مادی دنیا میں فعال شعور اور خودمختاری کے ساتھ گزرنا ہے۔ اسلامی نمونۂ حیات مومنوں اور کافروں کے درمیان بناوٹی تقسیم کی حمایت نہیں کرتا بلکہ ان کو شفاف اور ناقابل تغیر طور پر ان دو طبقوں میں منقسم کرتا ہے۔ اسلامی نظام میں ایمان اور کفر کے درمیان درحقیقت انتہائی سیال حد ہے جس میں کوئی بھی فرد اپنی آزاد مرضی کی بنیاد پر کسی بھی وقت دائرہِ اسلام میں داخل (یا خارج) ہونے کی فوری صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس لیے اسلام قائم بالذات رہنے کے لیے انسانی جسم کی مادی تشکیل پر انحصار نہیں کرتا۔ اس کے برعکس اس کے وجود کی جڑیں ایک مرکزی،مستحکم اور غیر مبدل حقیقت میں پیوست ہیں اس کا ‘وجود’ ایک بنیادی، مستحکم اورغیر متغیر ‘جوہر’ میں جڑا ہوا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ بنیادی، مابعد الطبیعاتی تعلق جو تمام مسلمانوں کو یک جٹ رکھتا ہے، زمان و مکان سے ماورا اپنی حقیقی شکل میں موجود ہے۔ یوں یہ انسانی فکر کے کسی مادی طور پر تعمیر شدہ تصور کے اندر یا اس کی پابند نہیں ہے ۔
یہودی علمیات (Jewish episteme) میں بہت ہی شدت پسند تصورات کے ساتھ کہ کون حقیقتاً ( یا ہو سکتا ہے ) یہودی ہے اور کون نہیں ہے بہرحال یہودی ہی “چنے ہوئے لوگ” ہیں۔اس طرح یہود پن کے مجموعی وجود کے ایک بڑے پہلو کا ارتکاز فرد ظاہری اور طبعی شخصیت پر رہا اس لیے زمان و مکاں میں اپنے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے یہودیت کو وجود کے مادی پہلو(یہ زیادہ تر اس اہمیت سے نمایاں طور پر ہویدا ہے جو نسل کو دی جاتی ہے) پر نظریں جما کے رکھنی ہیں ۔ ہم لمحہ حاضر میں اس اصول 1011 کے اسرائیلی ریاست کی نسل پرست قومیت میں ظہور کا مشاہدہ کر رہےہیں، جس کا خیال ہے کہ نسلی قوم پرستی درحقیقت “وراثت میں ملنے والے عناصر جیسے کہ پیدائشی مذہب، نسل، زبان، علاقہ وغیرہ پر مبنی ہے جو کہ فرد کے آزاد انتخاب(free choice) کے تابع نہیں ہیں۔”12 بہرصورت یہودیت ایک مادی، وقتی اورسماجی ساخت (structure) ہے جو پہلے پہل حضرت سلیمان علیہ السّلام کے انتقال کے ساتھ ہی ان کی بادشاہت دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کے بعد وجود میں آئی۔ ان میں سے ایک دھڑا سلطنت یہوداہ کا تھا جس کو یہ نام یعقوب علیہ السّلام کے بیٹوں میں سے ایک کے نام پر دیا گیا ۔اسی سلطنت یہوداہ یا یہودی سے “جِیو” کا نام مستعار ہے اور ایسا حضرت سلیمان علیہ السّلام کی وفات کے بعد ہی ہوا کہ یہودیت ایک اِدارَتی (institutionalized) عقیدہ بن گیا۔ یہ حقیقت کہ یہودیت ایک خود ساختہ مذہب ہے قرآن میں واضح طور پر جہاں الله تعالٰی خصوصاََ یہود سے خطاب کرتے ہیں تو بنی اسرائیل کی اصطلاح استعمال کرنے کے بجائے انہیں ھاد یا ھادوکے نام سے پکارے جاتے ہیں جس کے حقیقی معنی ہیں “وہ لوگ جو یہودی بن گئے”۔13 اس طرح یہودیت رہنمائی اور پرورش پانے کے لیے نبوت کے مرکز میں سے نہیں بلکہ اس کے بغیر وجود میں آئی جس سے لوگوں کی اپنے ہاتھوں سے پیدا ہونے والی (سابقہ) آلودگی کو دور کر کے ان کے ابتدائی طرز زندگی میں واپس لا کر مومنین کی ایک جماعت تشکیل پذیر ہوئی ہو گی۔ بہ الفاظ دیگر اس کی بنیاد فریب اور دھوکہ دہی پر رکھی گئی- خدا کے قول و قرار سے دغا بازی -کسی بھی نبی و رسول کے اختیار سے باہر اور یوں اس کے اندر ہر قسم کے ظلم و ستم اور ناانصافی کو داخل کرنا۔ ان میں سے سب سے بڑی نا انصافی خدا تعالیٰ کے کلام کو بدلنا اور یوں خدا کے حقیقی مقصد کو تبدیل کرنا تھا جس نے انسانیت کو میثاق قائم رکھنے اور خدا کی زمین پر اُس کا قانون نافذ کرنے کی ہدایت کی تھی جو کہ عدل و انصاف کا حقیقی اظہار اور حتمی مطمح نظر ہے۔ صیہونی عقیدے کی آفرینش کو اگرچہ اس کی شروعات خالصتاً ایک سیاسی منصوبے کے بطورہوئی ،مضبوطی سے ایک منظم مذہب کے طور پر یہودیت کی سابقہ تعمیری طرز پر باضابطہ پروان چڑھایا گیا ۔ صیہونیت اگرچہ ایک سیکولر تحریک کے بطور پروان چڑھی تاہم اس سے بڑھ کر یہ سیاسی تشخص پر مبنی ایک منصوبہ تھا البتہ اس نےمبہم سربستہ مذہبی رو کے ذریعے مابعد نشأۃ الثانیہ دنیا میں رواج حاصل کیاجس نے پہلے سے خود ہی ریاست اور مذہب کی تفریق کو جذب کر لیا تھا۔ صیہونی منصوبے میں “سیکولر “عنصر کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور جیسا کہ سیکولر ازم کے محققین نے اسے پیش کیا ہے اب مکمل طور پر “مذہبی” ہونے کے تصور کو اس کے اندر محدود کرتا ہے اور اپنی حدود کو شفٹ کرکے ان کی تشکیل، تشکیل نو اور یوں جس طرح سے بھی اپنے لیے سودمند سمجھےیہودی شناخت کی تعبیر نو کرتا ہے۔14 یوں اس صیہونی فلسفے کے اندر ایک ‘مقدس سرزمین’ کی تعمیر مکمل طور یادداشت پر مبنی ہے، جس کو سیکولرائزڈ رسمی عقیدے کے روزمرہ کے اعمال میں یاد کیا جاتا ہے، خصوصاً یہ دعا کر کے خدا کو پکارنا کہ اواخر ِتاریخ میں یہودیوں کو اس ارضِ مقدس پر بحال کرے۔15 تاہم اسلامی پیراڈائم کے اندر ارض مقدس کا تصور سیکولرائذڈ صیہونی فکر سے یکسر متضاد تصور پر مبنی ہے۔
اسلامی نظریۂ حیات مکمل طور پر حکمران اشرافیہ اور عام لوگوں کے درمیان اول الذکر کا تکبّر اور طغیان توڑ کر طاقت کی حرکیات کو منظم کرنے سے متعلق ہے، یوں زمین پر عدل و قانون الہٰی کے عدمِ نفاذ سے فتنے کی ابھرنے والی تمام صورتیں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مکہ، ریاست مدینہ کا قیام اور یروشلم اور اس سے آگے مسلمانوں کی مہمات اس بات کی گواہ ہیں کہ اسلامی وجودیاتی (ontological) فلسفے میں ‘مقدس’ کا مطلب مادی زمین کی تصور گری سے محض روحانی وابستگی کا نام نہیں ہے۔ اس کے بجائے، یہ دونوں مادی اور روحانی مملکتوں کو متحدہ خدائی مملکت میں آگے لے جاتا ہے جس تک صرف خدا کی زمین پر اس کے قانون کو قائم کرنے کے پیغمبرانہ نقشے کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، اس سبب سے وہ تمام غلط اور وقتی سلسلۂ مراتب کو چیلنج کرتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد نئے طاغوت (بُت) کے طور پر اسرائیل کا قیام، دنیا کے نو فرعونوں (neo-pharaohs) کی طرف سے اس کو سہارا دینے میں مدد کے لیے تکبر کا مظاہرہ، اور نتیجتاً مسلمانوں کی طرف سے قیامِ عدل کی خاطر ان قوتوں کو ختم کرنے کی کوششوں سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حق و باطل کے قرآنی پیراڈائم میں ایک مضبوط بنیاد اور توحیدی نظریات میں اپنی گہری جڑوں کے ساتھ اپنی غایت میں ایک اسلامی مسئلہ ہے۔
تسلط کی منطق جو صیہونی ریاست کی اصل بنیادوں میں راسخ ہے، اس کی نگرانی کے مضبوط نیٹ ورک جواس کی نوآبادیاتی (colonial) حدود کے اندر زندگی کے تانے بانے اور ناقابل تسخیر تقریباً دیومالائی آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم16 سے اس کے طاقتور بیرون ملک خصوصاً امریکہ میں لابیوں کے نیٹ ورک تک 17 کا مقصد فقط ایک ناقابلِ تسخیر طاقت ور ریاست کی تصویر گری کرنا ہے جو اسرائیل کے ’معبود ‘کے ہم پایہ ہو۔ اس لیے طاقت کی تمام ناحق،مادی درجہ بندیوں کے انکار کا اسلامی پیراڈائم اس حاکمیت اور بالادستی کا جوصیہونی فلسفے کے وجودی ڈھانچے میں موجود ہے ،کا واحد تریاق ہے ۔مزید برآں فلسطین کے بارے میں صیہونی دعوے کی تاریخیت بھی تعمیر شدہ یاد کےایک عفریت اور وہم کے سوا کچھ نہیں ہے۔جب (علامہ)محمد اقبال (وفات: 1938) نے 27 جولائی 1937 کو جاری کردہ ایک بیان میں اس دعوے کو کہ مسلمانوں نے فلسطین کی سرزمین کو مسلسل نوآبادی بنا کر یہودیوں سے زبردستی چھین لیا،کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انبیاء جو کہ یہودیوں کی طرف اس لیے بھیجے گئے تھے تاکہ وہ انہیں اسلام کی طرف واپس لائیں،کے توحیدی فلسفے کی بنیاد پر مسئلے (فلسطین) کو “خالصتاً مسلمانوں کا مسئلہ” قرار دیا۔18 اقبال نے اسلامی تناظر میں فلسطین کے لیے مزید ایک تاریخی مقدمہ قائم کیا:
“مسئلہ فلسطین کو اگر اسکے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو فلسطین ایک خالص اسلامی مسئلہ ہے بنی اسرائیل کی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو فلسطین میں مسئلہ یہود تو صدیاں ہوئی حضرت عمر (رضی الله تعالیٰ عنہ) کے یروشلم میں داخلہ سے قبل ختم ہو چکا تھا فلسطین سے یہودیوں کا جبری اخراج کبھی بھی عمل میں نہیں آیا بلکہ بقول پروفیسر ہوکنگ یہود اپنی مرضی اور ارادہ سے اس ملک سے باہر پھیل گئے اور ان کے مقدس صحائف کا غالب حصہ فلسطین سے باہر ہی مرتب و مدون ہوا۔” 19
مسلمان ہونے کے ناطے یہودیوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ بالکل نبی اکرم ﷺ کے مشن کا اعادہ ہونا چاہیے جو فتح مکہ اور ریاست مدینہ کے قیام، دونوں مواقع پر ظاہر ہوا تھا ۔آپﷺ کی پالیسی میں بہ یک وقت متکبر حاکم اشرافیہ کے زور اور طاقت کو توڑ کر الله کے قانون کا نفاذ تھا_ جو کہ تصورِ “عدل”میں عیاں ہے- جب کہ اسی دوران عوام پر رحم اور لطف و کرم کرنا جیسا کہ قرآن مجید میں موجود احکام رہنمائی کرتے ہیں۔ تب سے یہی بنیادی نقشہ مسلمان فاتحین کے پیش نظر رہا ہے۔
جب حضرت عمر فاروق نے بیت المقدس کو فتح کیا، جب صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کو شکستِ فاش دی ، بربریوں نے مسلم سپین (اندلس) میں اور سقوط اندلس کے اور بعد ازاں اس کی زمینوں سے مسلمانوں اور یہودیوں کی بے دخلی کے بعد عثمانیوں نے اسی نقشے کی پیروی کی ۔
موجودہ ردِ نوآبادیاتی (decolonization) موڑ جو مغربی بالادستی کو مرکز سے پرے دھکیلنے کے لیے ایک مزاحمتی تحریک کے طور پر ابھرا ہے، اس کے برعکس فلسفیانہ بے ضابطگیوں سے بھرا ہوا ہے ۔ وجود کے مغربی اطوار اور علم کی مغربی تھیوریوں کے باوجود یہ ہم آغوش سیکولر ،ہیومنسٹ مغربی علمیات (Western epistemology) میں قید ہے جو اس کے خلاف تمام سوچ و فکر اور تصورات کی تشکیل یہاں تک کہ اس کی حدود سے باہر کی دنیا کا تصور کرنے سے بھی روکتا ہے۔ کوئی بھی ردِ نوآبادیاتی کاروائی جس کی جڑیں کسی علمیاتی ردعمل کو چھوڑ کر کسی مابعد طبیعیاتی (metaphysical) سرتابی میں ہوں ،کو رد کیا جاتا ہےاور قدامت پسند، انتہا پسند اور منظم قرار دیا جاتا ہے۔فرانز فینن،20 ایڈورڈ سعید، ناؤم چومسکی اور ایلان پاپے (On Palestine) جیسے لوگوں کے کارناموں کو سچائی کی انجیلِ مقدس کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہےجس میں ان فلسفیانہ بنیادوں کے تعلق سے بہت کم سوال اٹھایا جاتا ہے جن پر ان مصنفین نے مغرب کے خلاف اپنی تنقید اور “مزاحمت” کی بنیاد رکھی ہے۔21
مغرب کے ساتھ ان کا معاملہ درحقیقت روشن خیالی کے اس ڈھانچے میں پیوستہ ہے جس کے سامراجی نتائج کی مزاحمت ہم توحیدی پیراڈائم کی طرف ملتفت ہو کر کرنا چاہتے ہیں۔ آج کل مسلم اکیڈمیا کو بھی خصوصاً مغرب میں اسی چیلنج کا سامنا ہے_ یعنی کہ کس طرح سے ردِ نوآبادیات کے اس تصور کو پروان چڑھایا جائے جس کی جڑیں توحیدی ڈھانچے میں ہوں اور جو توحیدی پیراڈائم کے زیر اثر کام کرے اس کے بجائے کہ وہ ناامیدی سے سیکولر ہیومنسٹ وجودیات (ontology secular humanist) کے اندر پھنسا رہے۔
مضمون نگار:
1 – شفاعت وانی
2- جویریہ آصف
مترجم: احمد فیاض
حوالہ جات و حواشی:
Works Cited:
- Davutoglu, Ahmet. Alternative Paradigms: The Impact of Islamic and Western Weltanschauungs on Political Theory. University Press of America, 1993.[⮐]
- The Holy Qur’an, 2:129.[⮐]
- The Holy Qur’an, 21:25.[⮐]
- Facchine, Tom. “Are All Religions the Same? Islam and the False Promise of Perennialism.” Yaqeen Institute, 13 September 2023, https://yaqeeninstitute.org/read/paper/are-all-religions-the-same-islam-and-the-false-promise-of-perennialism.[⮐]
- Anjum, Ovamir. “Islam as a Discursive Tradition: Talal Asad and His Interlocutors.” Comparative Studies of South Asia, Africa and the Middle East, vol. 27 no. 3, 2007, p. 656-672. Project MUSE muse.jhu.edu/article/224569. [⮐]
- Berlin, Adele, et al., editors. The Jewish Study Bible. Oxford University Press, 2004.[⮐]
- The Holy Qur’an, 5:24.[⮐]
- Alam, M. Shahid. Israeli Exceptionalism: The Destabilizing Logic of Zionism. Palgrave Macmillan, 2010.[⮐]
- This point is not mutually exclusive to the sharaf of Ahl al-Bayt, may Allah be pleased with them. The point here is that the question of salvation in Islam is not tied to bloodline or race, unlike in Hinduism, for example, where the superiority of some castes are established from birth, with nothing being able to take this superiority away.[⮐]
- Paz, Reut Yael. “The Stubborn Subversiveness of Judaism’s Matrilineal Principle.” Verfassungsblog, 29 September 2021, https://verfassungsblog.de/the-stubborn-subversiveness-of-judaisms-matrilineal-principle/[⮐]
- Cohen, Shaye J. D. “The Origins of the Matrilineal Principle in Rabbinic Law.” AJS Review, vol. 10, no. 1, 1985, pp. 19-53. https://doi.org/10.1017/S0364009400001185.[⮐]
- Fisher, Netanel. “Dynamic Ethnonationalism: The Ongoing Changes in the Ethnonational Borders—Israel in a Global Perspective.” Religions, vol. 13, no. 12, Nov. 2022, p. 1130. Crossref, https://doi.org/10.3390/rel13121130.[⮐]
- The Holy Qur’an, 4:160.[⮐]
- Stanislawski, Michael. Zionism: A Very Short Introduction. Oxford University Press, 2017.[⮐]
- Herzl, Theodor. Der Judenstaat. English. Bod Third Party Titles, 2012.[⮐]
- Weizman, Eyal. Hollow Land: Israel’s Architecture of Occupation. Verso, 2012.[⮐]
- Mearsheimer, John J., and Stephen M. Walt. The Israel Lobby and US Foreign Policy. Penguin Adult, 2008.[⮐]
- http://iqbalurdu.blogspot.com/2011/04/zarb-e-kaleem-005-la-ilaha-illallah.html. [⮐]
- عطاء اللہ،شیخ،اقبال نامہ(خطوط اقبال) حصہ اول،ص:452 https://www.rekhta.org/ebooks/iqbal-nama-part-001-ataullah-ebooks?lang=ur
- Harfouch, Ali. “Hegel, Fanon, and the Problem of Recognition.” Frantz Fanon and Emancipatory Social Theory (2019): 139-151. https://www.academia.edu/66147963/Hegel_Fanon_and_the_Problem_of_Recognition?email_work_card=view-paper&li=0.[⮐]
- Hallaq, Wael B. Restating Orientalism: A Critique of Modern Knowledge. Columbia University Press, 2018.[⮐]
Disclaimer: Material published by Traversing Tradition is meant to foster scholarly inquiry and rich discussion. The views, opinions, beliefs, or strategies represented in published articles and subsequent comments do not necessarily represent the views of Traversing Tradition or any employee thereof


Leave a Reply